Sayings of the Messenger احادیثِ رسول اللہ

 
Donation Request

Sahih Al-Bukhari

Book: Distribution of water (42)    كتاب المُساقاة

12

Chapter No: 11

باب لاَ حِمَى إِلاَّ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم

No Hima (private pasture) except according to what Allah and His Messenger (s.a.w) did.

باب: رمنہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے سوا کوئی محفوظ نہیں کر سکتا۔

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ الصَّعْبَ بْنَ جَثَّامَةَ، قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ لاَ حِمَى إِلاَّ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ ‏"‏‏.‏ وَقَالَ بَلَغَنَا أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم حَمَى النَّقِيعَ، وَأَنَّ عُمَرَ حَمَى السَّرَفَ وَالرَّبَذَةَ‏.‏

Narrated By As-Sab bin Jaththama : Allah's Apostle said, No Hima except for Allah and His Apostle. We have been told that Allah's Apostle made a place called An-Naqi' as Hima, and 'Umar made Ash-Sharaf and Ar-Rabadha Hima (for grazing the animals of Zakat).

حضرت صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :چراہ گاہ اللہ اور اس کا رسول ہی محفوظ کر سکتا ہے اور امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا ہم کو خبر پہنچی ہے کہ نبیﷺ نے نقیع کو محفوظ کیا ، اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سرف اور ربذہ کو چراہ گاہ بنایا۔

Chapter No: 12

باب شُرْبِ النَّاسِ وَالدَّوَابِّ مِنَ الأَنْهَارِ

Drinking water by people and watering animals from the rivers.

باب: نہروں میں سے آدمی اور جانور پانی پی سکتے ہیں۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ الْخَيْلُ لِرَجُلٍ أَجْرٌ، وَلِرَجُلٍ سِتْرٌ، وَعَلَى رَجُلٍ وِزْرٌ، فَأَمَّا الَّذِي لَهُ أَجْرٌ فَرَجُلٌ رَبَطَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَأَطَالَ بِهَا فِي مَرْجٍ أَوْ رَوْضَةٍ، فَمَا أَصَابَتْ فِي طِيَلِهَا ذَلِكَ مِنَ الْمَرْجِ أَوِ الرَّوْضَةِ كَانَتْ لَهُ حَسَنَاتٍ، وَلَوْ أَنَّهُ انْقَطَعَ طِيَلُهَا فَاسْتَنَّتْ شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ كَانَتْ آثَارُهَا وَأَرْوَاثُهَا حَسَنَاتٍ لَهُ، وَلَوْ أَنَّهَا مَرَّتْ بِنَهَرٍ فَشَرِبَتْ مِنْهُ وَلَمْ يُرِدْ أَنْ يَسْقِيَ كَانَ ذَلِكَ حَسَنَاتٍ لَهُ، فَهِيَ لِذَلِكَ أَجْرٌ، وَرَجُلٌ رَبَطَهَا تَغَنِّيًا وَتَعَفُّفًا ثُمَّ لَمْ يَنْسَ حَقَّ اللَّهِ فِي رِقَابِهَا وَلاَ ظُهُورِهَا، فَهِيَ لِذَلِكَ سِتْرٌ، وَرَجُلٌ رَبَطَهَا فَخْرًا وَرِيَاءً وَنِوَاءً لأَهْلِ الإِسْلاَمِ، فَهِيَ عَلَى ذَلِكَ وِزْرٌ ‏"‏‏.‏ وَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْحُمُرِ فَقَالَ ‏"‏ مَا أُنْزِلَ عَلَىَّ فِيهَا شَىْءٌ إِلاَّ هَذِهِ الآيَةُ الْجَامِعَةُ الْفَاذَّةُ ‏{‏َمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ * وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ ‏}‏‏"‏

Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle said, "Keeping horses may be a source of reward to some (man), a shelter to another (i.e. means of earning one's living), or a burden to a third. He to whom the horse will be a source of reward is the one who keeps it in Allah's cause (prepares it for holy battles) and ties it by a long rope in a pasture (or a garden). He will get a reward equal to what its long rope allows it to eat in the pasture or the garden, and if that horse breaks its rope and crosses one or two hills, then all its footsteps and its dung will be counted as good deeds for its owner; and if it passes by a river and drinks from it, then that will also be regarded as a good deed for its owner even if he has had no intention of watering it then. Horses are a shelter from poverty to the second person who keeps horses for earning his living so as not to ask others, and at the same time he gives Allah's right (i.e. Zakat) (from the wealth he earns through using them in trading etc.) and does not overburden them. He who keeps horses just out of pride and for showing off and as a means of harming the Muslims, his horses will be a source of sins to him." When Allah's Apostle was asked about donkeys, he replied, "Nothing particular was revealed to me regarding them except the general unique verse which is applicable to everything: "Whoever does goodness equal to the weight of an atom (or small ant) shall see it (its reward) on the Day of Resurrection."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: گھوڑا ایک آدمی کےلیے باعث ثواب ہے ، دوسرے کےلیے بچاؤ ہے ۔ اور تیرے کےلیے وبال ہے ۔جس کے لیے گھوڑا اجر و ثواب ہے ، وہ وہ شخص ہے جو اللہ کی راہ کےلیے اس کوپالے ، وہ اسے کسی ہریالے میدان میں باندھے ، یا کسی باغ میں ۔ تو جس قدر بھی وہ اس ہریالے میدان یا باغ میں چرے گا۔ اس کی نیکیوں میں لکھا جائے گا۔ اگر اتفاق سے اس کی رسی ٹوٹ گئی اور گھوڑا ایک یا دو مرتبہ آگے کے پاؤں اٹھاکر کودا ۔ تو اس کے آثار قدم اور لید بھی مالک کی نیکیوں میں لکھے جائیں گے اور اگر وہ گھوڑا کسی ندی سے گذرے اور اس کا پانی پئے خواہ مالک نے اسے پلانے کا ارادہ نہ کیا ہو تو بھی یہ اس کی نیکیوں میں لکھا جائے گا۔ تو اس نیت سے پالا جانے والا گھوڑا انہیں وجوہ سے باعث ثواب ہے ۔ دوسرا شخص وہ ہے جو لوگوں سے بے نیاز رہنے اور ان کے سامنے دست سوال بڑھانے سے بچنے کےلیے گھوڑا پالے ، پھر اس کی گردن اور اس پیٹھ کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ کے حق کو بھی فراموش نہ کرے تو یہ گھوڑا اپنے مالک کےلیے پردہ اور بچاؤ ہے۔تیسرا شخص وہ ہے جو گھوڑے کو فخر ، دکھاوے اور مسلمانوں کی دشمنی میں پالے تو یہ گھوڑا اس کے لیے وبال ہے ۔ رسول اللہﷺسے گدھوں کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپﷺنے فرمایا: مجھے اس کے متعلق کوئی حکم وحی سے معلوم نہیں ہوا ، سوائے اس جامع آیت کے "جو شخص ذرہ برابر بھی نیکی کرے گا " اس کا بدلہ پائے گا اور جو ذرہ برابر برائی کرے گا ، اس کا بدلہ پائے گا"۔


حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ يَزِيدَ، مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَهُ عَنِ اللُّقَطَةِ، فَقَالَ ‏"‏ اعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا، ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلاَّ فَشَأْنَكَ بِهَا ‏"‏‏.‏ قَالَ فَضَالَّةُ الْغَنَمِ قَالَ ‏"‏ هِيَ لَكَ أَوْ لأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ ‏"‏‏.‏ قَالَ فَضَالَّةُ الإِبِلِ قَالَ ‏"‏ مَالَكَ وَلَهَا مَعَهَا سِقَاؤُهَا وَحِذَاؤُهَا، تَرِدُ الْمَاءَ وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ، حَتَّى يَلْقَاهَا رَبُّهَا ‏"‏‏.

Narrated By Zaid bin Khalid : A man came to Allah's Apostle and asked about Al-Luqata (a fallen thing). The Prophet said, "Recognize its container and its tying material and then make a public announcement about it for one year and if its owner shows up, give it to him; otherwise use it as you like." The man said, "What about a lost sheep?" The Prophet said, "It is for you, your brother or the wolf." The man said "What about a lost camel?" The Prophet said, "Why should you take it as it has got its water-container (its stomach) and its hooves and it can reach the places of water and can eat the trees till its owner finds it?"

حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺکی خدمت میں ایک شخص آیا اور آپ ﷺسے لقہ (راستے میں کوئی گمشدہ چیز ملے) کے بارے میں پوچھا تو آپﷺنے فرمایا: اس کی تھیلی اور اس کے بندھن کی خوب جانچ کرلو۔ پھر ایک سال تک اس کا اعلان کرتے رہو۔ اس عرصے میں اگر اس کا مالک آجائے (تو اسے دے دو) وہ پھر وہ چیز تمہاری ہے ۔ سائل نے پوچھا ، اور گمشدہ بکری ؟ آپﷺنے فرمایا: وہ تمہاری ہے یا تمہارے بھائی کی ہے ، یا پھر بھیڑئیے کی ہے ۔سائل نے پوچھا ، اور گمشدہ اونٹ ؟ آپ ﷺنے فرمایا: تمہیں اس سے کیا مطلب ؟ اس کے ساتھ اسے سیراب رکھنے والی چیز ہے اور اس کا کھر ہے ۔پانی پر بھی وہ جاسکتا ہے اور درخت (کے پتے) بھی کھاسکتا ہے یہاں تک کہ اس کا مالک اس کو پاجائے۔

Chapter No: 13

باب بَيْعِ الْحَطَبِ وَالْكَلإِ

The selling of wood and grass.

باب: لکڑی گھانس بیچنا۔

حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ لأَنْ يَأْخُذَ أَحَدُكُمْ أَحْبُلاً، فَيَأْخُذَ حُزْمَةً مِنْ حَطَبٍ فَيَبِيعَ، فَيَكُفَّ اللَّهُ بِهِ وَجْهَهُ، خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ النَّاسَ أُعْطِيَ أَمْ مُنِعَ ‏"‏‏.‏

Narrated By Az-Zubair bin Al 'Awwam : The Prophet said, "No doubt, one had better take a rope (and cut) and tie a bundle of wood and sell it whereby Allah will keep his face away (from Hell-fire) rather than ask others who may give him or not."

حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے فرمایا: اگر کوئی شخص رسی لے کر لکڑیوں کا گھٹا لائے ، پھر اسے بیچے اور اس طرح اللہ تعالیٰ اس کی عزت محفوظ رکھے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں سے سوال کرے وہ دیں یا نہ دیں۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لأَنْ يَحْتَطِبَ أَحَدُكُمْ حُزْمَةً عَلَى ظَهْرِهِ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ أَحَدًا فَيُعْطِيَهُ أَوْ يَمْنَعَهُ ‏"‏‏.‏

Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle said, "No doubt, you had better gather a bundle of wood and carry it on your back (and earn your living thereby) rather than ask somebody who may give you or not."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ کہتے تھے رسول اللہﷺ نے فرمایا: اگر تم میں کوئی اپنی پیٹھ پر لکڑیوں کا گٹھا لاد کر لائے تووہ اس سے بہتر ہے کہ کسی سے سوال کرے وہ اس کو دے یا نہ دے۔


حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَهُمْ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ـ رضى الله عنهم ـ أَنَّهُ قَالَ أَصَبْتُ شَارِفًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي مَغْنَمٍ يَوْمَ بَدْرٍ قَالَ وَأَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَارِفًا أُخْرَى، فَأَنَخْتُهُمَا يَوْمًا عِنْدَ باب رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ، وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَحْمِلَ عَلَيْهِمَا إِذْخِرًا لأَبِيعَهُ، وَمَعِي صَائِغٌ مِنْ بَنِي قَيْنُقَاعَ فَأَسْتَعِينَ بِهِ عَلَى وَلِيمَةِ فَاطِمَةَ، وَحَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَشْرَبُ فِي ذَلِكَ الْبَيْتِ مَعَهُ قَيْنَةٌ، فَقَالَتْ أَلاَ يَا حَمْزَ لِلشُّرُفِ النِّوَاءِ‏.‏ فَثَارَ إِلَيْهِمَا حَمْزَةُ بِالسَّيْفِ، فَجَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا، وَبَقَرَ خَوَاصِرَهُمَا، ثُمَّ أَخَذَ مِنْ أَكْبَادِهِمَا‏.‏ قُلْتُ لاِبْنِ شِهَابٍ وَمِنَ السَّنَامِ قَالَ قَدْ جَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا فَذَهَبَ بِهَا‏.‏ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ قَالَ عَلِيٌّ ـ رضى الله عنه ـ فَنَظَرْتُ إِلَى مَنْظَرٍ أَفْظَعَنِي فَأَتَيْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعِنْدَهُ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ فَأَخْبَرْتُهُ الْخَبَرَ فَخَرَجَ وَمَعَهُ زَيْدٌ، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ، فَدَخَلَ عَلَى حَمْزَةَ فَتَغَيَّظَ عَلَيْهِ فَرَفَعَ حَمْزَةُ بَصَرَهُ وَقَالَ هَلْ أَنْتُمْ إِلاَّ عَبِيدٌ لآبَائِي فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُقَهْقِرُ حَتَّى خَرَجَ عَنْهُمْ، وَذَلِكَ قَبْلَ تَحْرِيمِ الْخَمْرِ‏.‏

Narrated By Husain bin Ali : Ali bin Abi Talib said: "I got a she-camel as my share of the war booty on the day (of the battle) of Badr, and Allah's Apostle gave me another she-camel. I let both of them kneel at the door of one of the Ansar, intending to carry Idhkhir on them to sell it and use its price for my wedding banquet on marrying Fatima. A goldsmith from Bam Qainqa' was with me. Hamza bin 'Abdul-Muttalib was in that house drinking wine and a lady singer was reciting: "O Hamza! (Kill) the (two) fat old she camels (and serve them to your guests)." So Hamza took his sword and went towards the two she-camels and cut off their humps and opened their flanks and took a part of their livers." (I said to Ibn Shihab, "Did he take part of the humps?" He replied, "He cut off their humps and carried them away.") 'Ali further said, "When I saw that dreadful sight, I went to the Prophet and told him the news. The Prophet came out in the company of Zaid bin Haritha who was with him then, and I too went with them. He went to Hamza and spoke harshly to him. Hamza looked up and said, 'Aren't you only the slaves of my forefathers?' The Prophet retreated and went out. This incident happened before the prohibition of drinking."

حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺکے ساتھ بدر کی لڑائی کے موقع پر مجھے ایک جوان اونٹنی غنیمت میں ملی تھی۔ ایک دوسری اونٹنی مجھے رسول اللہﷺنے عنایت فرمائی تھی۔ ایک دن ایک انصاری صحابی کے دروازے پر میں ان دونوں کو اس خیال سے باندھے ہوئے تھا کہ ان کی پیٹھ پر اذخر (ایک قسم کی گھاس) رکھ کر بیچنے لے جاؤں۔ بنی قینقاع کا ایک سنار بھی میرے ساتھ تھا ۔ اس طرح اس کی آمدنی سے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا ولیمہ کروں گا۔حضرت حمزہ بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ اسی (انصاری کے ) گھر میں شراب پی رہے تھے ۔ان کے ساتھ ایک گانے والی بھی تھی۔ اس نے جب یہ مصرعہ پڑھا: ہاں اے حمزہ! اٹھو فربہ جوان اونٹنیوں کی طرف بڑھو ، حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ جوش میں تلوار لے کر اٹھے اور دونوں اونٹنیوں کے کوہاں چیر دئیے۔ان کے پیٹ پھاڑ ڈالے، اور ان کی کلیجی نکال لی ۔(ابن جریج نے بیان کیا کہ) میں نے ابن شہاب سے پوچھا کیا کوہاں کا گوشت بھی کاٹ لیا تھا۔ تو انہوں نے بیان کیا کہ ان دونوں کے کوہاں کاٹ لیے اور انہیں لیے گئے۔ابن شہاب نے بیان کیا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے یہ دیکھ کر بڑی تکلیف ہوئی ۔ پھر میں نبی ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا ۔ آپﷺکی خدمت میں اس وقت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے ۔ میں نے آپﷺکو اس واقعہ کی اطلاع دی تو آپﷺتشریف لائے۔حضرت زید بھی آپﷺکے ساتھ ہی تھے اور میں بھی آپﷺکے ساتھ تھا ۔ آپﷺجب حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے اور آپﷺنے خفگی ظاہر فرمائی تو حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے نظر اٹھاکر کہا: تم سب میرے باپ دادا کے غلام ہو۔آپﷺالٹے پاؤں لوٹ کر ان کے پاس سے چلے آئے ۔ یہ شراب کی حرمت سے پہلے کا واقعہ ہے۔

Chapter No: 14

باب الْقَطَائِعِ

The uncultivated pieces of land (granted by the ruler to some individuals).

باب: جاگیر مقطعہ دینے کا بیان۔

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا ـ رضى الله عنه ـ قَالَ أَرَادَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُقْطِعَ مِنَ الْبَحْرَيْنِ، فَقَالَتِ الأَنْصَارُ حَتَّى تُقْطِعَ لإِخْوَانِنَا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ مِثْلَ الَّذِي تُقْطِعُ لَنَا قَالَ ‏"‏ سَتَرَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي ‏"‏‏.‏

Narrated By Anas : The Prophet decided to grant a portion of (the uncultivated land of) Bahrain to the Ansar. The Ansar said, "(We will not accept it) till you give a similar portion to our emigrant brothers (from Quraish)." He said, "(O Ansar!) You will soon see people giving preference to others, so remain patient till you meet me (on the Day of Resurrection).

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے بحرین میں کچھ قطعات اراضی بطور جاگیر (انصار کو) دینے کا ارادہ کیا تو انصار نے عرض کیا کہ ہم جب لیں گے کہ آپ ہمارے مہاجر بھائیوں کو بھی اسی طرح کے قطعات عنایت فرمائیں ۔ اس پر آپﷺنے فرمایا: میرے بعد تم پر ترجیح دی جایا کرے گی تو اس وقت تم صبر کرنا۔ یہاں تک کہ ہم سے (آخرت میں آکر) ملاقات کرو۔

Chapter No: 15

باب كِتَابَةِ الْقَطَائِعِ

Documentation of the land grants.

باب: جاگیر مقطعوں کی سند لکھ دینا۔

وَقَالَ اللَّيْثُ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ دَعَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الأَنْصَارَ لِيُقْطِعَ لَهُمْ بِالْبَحْرَيْنِ، فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ فَعَلْتَ فَاكْتُبْ لإِخْوَانِنَا مِنْ قُرَيْشٍ بِمِثْلِهَا، فَلَمْ يَكُنْ ذَلِكَ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي ‏"‏‏.‏

Narrated Anas(R.A.):The Prophet (s.a.w.) called the Ansar so as to grant them a portion of(the land of)Bahrain.They said,"O Allah's Apostle! If you grant this to us , write a similar document to our Quraish(emigrant)brothers".But the Prophet(s.a.w.) did not have enough grants and he said ,"After me you will see the people giving preference(to others), so be patient till you meet me."

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے انصار کو بلاکر بحرین میں انہیں قطعات اراضی بطور جاگیر دینا چاہا تو انہوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! اگر آپ کو ایسا کرنا ہی ہے تو ہمارے بھائی قریش کو بھی اسی طرح کے قطعات کی سند لکھ دیجئے ، لیکن نبیﷺکے پاس اتنی زمین ہی نہ تھی۔ اس لیے آپﷺنے ان سے فرمایا: "میرے بعد تم دیکھو گے کہ دوسرے لوگوں کو تم پر مقدم کیاجائے گا۔ تو اس وقت تم مجھ سے ملنے تک صبر کئے رہنا۔

Chapter No: 16

باب حَلَبِ الإِبِلِ عَلَى الْمَاءِ

Milking she-camels at water places.

باب: پانی کے پاس اونٹنیوں کو دوہنا۔

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ هِلاَلِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مِنْ حَقِّ الإِبِلِ أَنْ تُحْلَبَ عَلَى الْمَاءِ ‏"‏‏.‏

Narrated By Abu Huraira : The Prophet said, "One of the rights of a she camel is that it should be milked at a place of water."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سےروایت ہے کہ نبیﷺنے فرمایا : اونٹنیوں کا یہ حق ہے کہ ان کا دودھ پانی کے پاس دوہا جائے۔

Chapter No: 17

باب الرَّجُلِ يَكُونُ لَهُ مَمَرٌّ، أَوْ شِرْبٌ فِي حَائِطٍ أَوْ فِي نَخْلٍ

One may have the right to pass through a garden or to have a share in date-palms.

باب: باغ میں گزرنے کا حق یا کھجور کے درختوں میں پانی پلانے کا حصہ۔

قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ بَاعَ نَخْلاً بَعْدَ أَنْ تُؤَبَّرَ فَثَمَرَتُهَا لِلْبَائِعِ ‏"‏‏.‏ فَلِلْبَائِعِ الْمَمَرُّ وَالسَّقْىُ حَتَّى يَرْفَعَ وَكَذَلِكَ رَبُّ الْعَرِيَّةِ‏

The Prophet (s.a.w) said, "If somebody sells date-palms after pollinating them, their fruits will be for him and he has the right to enter the garden and irrigate the date-palms till he reaps the fruits. The owner of Ariya has a similar right."

نبیﷺ نے فرمایا جس نے پیوند کرنے کے بعد کھجور کا درخت بیچا تو اس کا میوہ (جو درخت پر ہو) بیچنے والے ہی کا ہے اور جب تک وہ اپنا میوہ اٹھا نہ لے اس کو وہاں جانے اور درخت کو پانی پلانے کا حق ہو گا اور ایسا ہی عریہ والے کو بھی ۔

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ مَنِ ابْتَاعَ نَخْلاً بَعْدَ أَنْ تُؤَبَّرَ فَثَمَرَتُهَا لِلْبَائِعِ، إِلاَّ أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ، وَمَنِ ابْتَاعَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ فَمَالُهُ لِلَّذِي بَاعَهُ إِلاَّ أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ ‏"‏‏.‏ وَعَنْ مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ فِي الْعَبْدِ‏.‏

Narrated By Abdullah(R.A.): Allah's Apostle(s.a.w.) said," If somebody buys date-palms after they have been pollinated, the fruits will belong to the seller unless the buyer stipulates the contrary.If somebody buys a slave having some property, the property will belong to the seller unless the buyer stipulates that it should belong to him.

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہِﷺکو فرماتے ہوئے سنا آپ فرمارہے تھے کہ پیوندکاری کے بعد اگر کسی شخص نے اپنا کھجور کا درخت بیچا تو (اس سال کی فصل کا) پھل بیچنے والے ہی کا رہتا ہے۔ ہاں اگر خریدار شرط لگائے (کہ پھل بھی خریدار ہی کا ہوگا) تو یہ صورت الگ ہے۔ اگر کسی شخص نے کوئی مال والا غلام بیچا تو وہ مال بیچنےوالے کا ہوتا ہے۔ہاں اگر خریدار شرط لگادے تو یہ صورت الگ ہے۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ـ رضى الله عنهم ـ قَالَ رَخَّصَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ تُبَاعَ الْعَرَايَا بِخَرْصِهَا تَمْرًا‏.‏

Narrated By Zaid bin Thabit : The Prophet permitted selling the dates of the 'Araya for ready dates by estimating the amount of the former (as they are still on the trees).

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے عریہ کے سلسلہ میں اس کی رخصت دی تھی کہ اندازہ کرکے خشک کھجور کے بدلے بیچا جاسکتا ہے۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْمُخَابَرَةِ، وَالْمُحَاقَلَةِ، وَعَنِ الْمُزَابَنَةِ، وَعَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلاَحُهَا، وَأَنْ لاَ تُبَاعَ إِلاَّ بِالدِّينَارِ وَالدِّرْهَمِ، إِلاَّ الْعَرَايَا‏.‏

Narrated By Jabir bin 'Abdullah : The Prophet forbade the sales called Al-Mukhabara, Al-Muhaqala and Al-Muzabana and the selling of fruits till they are free from blights. He forbade the selling of the fruits except for money, except the 'Araya.

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے مخابرہ ، محاقلہ ، اور مزابنہ سے منع فرمایا تھا اسی طرح پھل کو پختہ ہونے سے قبل بیچنے سے منع فرمایا تھا، اور یہ کہ میوہ یا غلہ جو درخت پر لگاہو، دینار و درہم ہی کے بدلے بیچا جائے۔البتہ عرایا کی اجازت دی ہے۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، مَوْلَى أَبِي أَحْمَدَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ رَخَّصَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي بَيْعِ الْعَرَايَا بِخَرْصِهَا مِنَ التَّمْرِ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ أَوْ فِي خَمْسَةِ أَوْسُقٍ، شَكَّ دَاوُدُ فِي ذَلِكَ‏.‏

Narrated By Abu Huraira : The Prophet allowed the sale of the dates of the 'Araya for ready dates by estimating the former which should be estimated as less than five Awsuq or five Awsuq. (Dawud, the sub-narrator is not sure as to the right amount.)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے بیع عرایا کی اندازہ کرکے خشک کھجور کے بدلے پانچ وسق سے کم، یا پانچ وسق کے اندر اجازت دی ہے ۔ اس میں راوی داود بن حصین کو شک ہوا۔


حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ أَخْبَرَنِي الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ، مَوْلَى بَنِي حَارِثَةَ أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ، وَسَهْلَ بْنَ أَبِي حَثْمَةَ، حَدَّثَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ بَيْعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ، إِلاَّ أَصْحَابَ الْعَرَايَا فَإِنَّهُ أَذِنَ لَهُمْ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ وَقَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي بُشَيْرٌ مِثْلَهُ‏.‏

Narrated By Rafi 'bin Khadij and Sahl bin Al Hathma : Allah's Apostle forbade the sale of Muzabana, i.e. selling of fruits for fruits, except in the case of 'Araya; he allowed the owners of 'Araya such kind of sale.

حضرت رافع بن خدیج اور سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہﷺنے بیع مزابنہ یعنی درخت پر لگے ہوئے کھجور کو خشک کی ہوئی کھجور کے بدلے بیچنے سے منع فرمایا: عریہ کرنے والوں کے علاوہ کہ انہیں آپﷺنے اجازت دے دی تھی۔


حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ أَخْبَرَنِي الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ، مَوْلَى بَنِي حَارِثَةَ أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ، وَسَهْلَ بْنَ أَبِي حَثْمَةَ، حَدَّثَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ بَيْعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ، إِلاَّ أَصْحَابَ الْعَرَايَا فَإِنَّهُ أَذِنَ لَهُمْ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ وَقَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي بُشَيْرٌ مِثْلَهُ‏.‏

Narrated By Rafi 'bin Khadij and Sahl bin Al Hathma : Allah's Apostle forbade the sale of Muzabana, i.e. selling of fruits for fruits, except in the case of 'Araya; he allowed the owners of 'Araya such kind of sale.

حضرت رافع بن خدیج اور سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہما دونوں نے بیان کیا کہ رسولﷺ نے بیع مزابنہ یعنی درخت پر لگے ہوئے کھجور کو خشک کھجور کے بدلے بیچنے سے منع فرمایا البتہ عرایا والوں کو اس کی اجازت دی۔

12