Sayings of the Messenger

 

123

Chapter No: 21

باب عَسْبِ الْفَحْلِ

(Charging for) the semen of a male animal (i.e., copulation of animals).

باب: نر جانور کدانے کی اجرت ۔

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ عَسْبِ الْفَحْلِ‏

Narrated By Ibn 'Umar : The Prophet forbade taking a price for animal copulation.

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: نبیﷺ نے نرکدانے کی اجرت لینے سے منع فرمایا۔

Chapter No: 22

باب إِذَا اسْتَأْجَرَ أَرْضًا فَمَاتَ أَحَدُهُمَا

If somebody rents land and he or the owner of the land dies

باب: اگر کوئی زمین کو اجارے پر لے لے پھر اجارہ دینے والا یا لینے مر جائے

وَقَالَ ابْنُ سِيرِينَ لَيْسَ لأَهْلِهِ أَنْ يُخْرِجُوهُ إِلَى تَمَامِ الأَجَلِ‏.‏ وَقَالَ الْحَكَمُ وَالْحَسَنُ وَإِيَاسُ بْنُ مُعَاوِيَةَ تُمْضَى الإِجَارَةُ إِلَى أَجَلِهَا‏.‏ وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ أَعْطَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم خَيْبَرَ بِالشَّطْرِ، فَكَانَ ذَلِكَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَبِي بَكْرٍ وَصَدْرًا مِنْ خِلاَفَةِ عُمَرَ، وَلَمْ يُذْكَرْ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ جَدَّدَا الإِجَارَةَ بَعْدَ مَا قُبِضَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم‏

According to Ibn Sirin the inheritors have no right to expel the tenant before the term of the contract has elapsed. Hakam, Al-Hasan and Ayas bin Muawiya said, "The contract remains valid till the end of the term." Ibn Umar said, "The Prophet (s.a.w) rented the land of Khaibar on the terms that half the yield would be his share. That contract continued during the lifetime of the Prophet (s.a.w), Abu Bakr, and the early part of Umar's caliphate." It was not mentioned that Abu Bakr renewed the contract after the death of the Prophet (s.a.w).

اور ابن سیرین نے کہا کہ زمین والے بغیر مدت پوری ہوئے مستاجر کو (یا اس کے وارثوں کو) بیدخل نہیں کر سکتے اور حکم اور حسن اور ایاس بن معاویہ نے کہا اجارہ مدت ختم ہونے تک باقی رہتا ہے اور عبداللہ بن عمرؓ نے کہا نبیﷺ نے خیبر کا اجارہ آدھوں آدھ بٹائے پر یہودیوں کو دیا تھا پھر یہی اجارہ نبیﷺ اور ابو بکرؓ کے زمانے تک باقی رہا اور عمرؓ کے بھی شروع خلافت میں اور کہیں یہ ذکر نہیں ہے کہ ابو بکرؓ اور عمرؓ نے نبیﷺ کی وفات کے بعد نیا اجارہ کیا ہو۔

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَيْبَرَ أَنْ يَعْمَلُوهَا وَيَزْرَعُوهَا وَلَهُمْ شَطْرُ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا، وَأَنَّ ابْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ أَنَّ الْمَزَارِعَ كَانَتْ تُكْرَى عَلَى شَىْءٍ سَمَّاهُ نَافِعٌ لاَ أَحْفَظُهُ

Narrated By Abdullah bin Umar : "Allah's Apostle gave the land of Khaibar to the Jews to work on and cultivate and take half of its yield. Ibn 'Umar added, "The land used to be rented for a certain portion (of its yield)." Nafi mentioned the amount of the portion but I forgot it.

حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ سےروایت ہے کہ انہوں نے کہا: رسول اللہﷺ نے خیبر کو یہودیوں کے حوالے کیا اس شرط پر کہ وہ اس میں محنت اور کاشت کریں اور پیداوار کا آدھا حصہ لیں۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ بیان کیا کہ زمین کچھ کرایہ پر دی جاتی تھی۔ نافع نے اس کرایہ کی تعیین بھی کردی تھی لیکن وہ مجھے یاد نہیں رہا۔


وَأَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ حَدَّثَ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ‏.‏ وَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ حَتَّى أَجْلاَهُمْ عُمَرُ‏

Rafi' bin Khadij said, "The Prophet forbade renting farms." Narrated 'Ubaid-Ullah Nafi' said: Ibn 'Umar said: (The contract of Khaibar continued) till 'Umar evacuated the Jews (from Khaibar).

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبیﷺنے زمینوں کو کرایہ پر دینے سے منع فرمایا تھا،اور عبید اللہ نے نافع سے بیان کیا ، اور ان سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہ (خیبر کے یہودیوں کے ساتھ وہاں کی زمین کا معاملہ برابر چلتا رہا) یہاں تک کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں جلا وطن کردیا۔

123