Sayings of the Messenger

 

123Last ›

1. باب بَدْءُ الأَذَانِ

حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ ذَكَرُوا النَّارَ وَالنَّاقُوسَ، فَذَكَرُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى، فَأُمِرَ بِلاَلٌ أَنْ يَشْفَعَ الأَذَانَ وَأَنْ يُوتِرَ الإِقَامَةَ

Narrated By Anas : The people mentioned the fire and the bell (they suggested those as signals to indicate the starting of prayers), and by that they mentioned the Jews and the Christians. Then Bilal was ordered to pronounce Adhan for the prayer by saying its wordings twice, and for the Iqama (the call for the actual standing for the prayers in rows) by saying its wordings once. (Iqama is pronounced when the people are ready for the prayer).

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا: لوگوں نے (آپﷺ سے) آگ اور گھنٹے کا ذکر کیا اور یہود اور نصاریٰ کا حال بیان کیا، پھر حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو یہ حکم ہوا کہ دو دو مرتبہ اذان کے کلمات کہیں اور اقامت میں ایک ایک مرتبہ۔


حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، كَانَ يَقُولُ كَانَ الْمُسْلِمُونَ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ يَجْتَمِعُونَ فَيَتَحَيَّنُونَ الصَّلاَةَ، لَيْسَ يُنَادَى لَهَا، فَتَكَلَّمُوا يَوْمًا فِي ذَلِكَ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ اتَّخِذُوا نَاقُوسًا مِثْلَ نَاقُوسِ النَّصَارَى‏.‏ وَقَالَ بَعْضُهُمْ بَلْ بُوقًا مِثْلَ قَرْنِ الْيَهُودِ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ أَوَلاَ تَبْعَثُونَ رَجُلاً يُنَادِي بِالصَّلاَةِ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يَا بِلاَلُ قُمْ فَنَادِ بِالصَّلاَةِ ‏"‏‏

Narrated By Ibn 'Umar : When the Muslims arrived at Medina, they used to assemble for the prayer, and used to guess the time for it. During those days, the practice of Adhan for the prayers had not been introduced yet. Once they discussed this problem regarding the call for prayer. Some people suggested the use of a bell like the Christians, others proposed a trumpet like the horn used by the Jews, but 'Umar was the first to suggest that a man should call (the people) for the prayer; so Allah's Apostle ordered Bilal to get up and pronounce the Adhan for prayers.

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے تھے مسلمان جب (پہلے پہل) مدینہ میں آئے تو نماز کےلئے یوں ہی جمع ہوجاتے ایک وقت ٹھہرا لیتے نماز کےلئے اذان نہیں ہوتی تھی، ایک دن انہوں نے اس بارے میں گفتگو کی تو بعض کہنے لگے (ایسا کرو) نصاریٰ کی طرح ایک گھنٹہ بنالو اور بعض نے کہا: یہودیوں کی طرح ایک نرسنگا (بگل) بنالو (اس کو پھونک دیا کرو) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ایسا کیوں نہیں کرتے ایک آدمی کو مقرر کردو وہ نماز کےلئے پکارا کرے اس وقت رسول اللہ ﷺ نے (اسی رائے کو پسند فرمایا) اور بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اٹھو! نماز کےلئے اذان دے دو۔

2. باب الأَذَانُ مَثْنَى مَثْنَى

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، ‏عَنْ أَنَسٍ، قَالَ أُمِرَ بِلاَلٌ أَنْ يَشْفَعَ، الأَذَانَ وَأَنْ يُوتِرَ الإِقَامَةَ إِلاَّ الإِقَامَةَ

Narrated By Anas : Bilal was ordered to repeat the wording of the Adhan for prayers twice, and to pronounce the wording of the Iqamas once except "Qad-qamat-is-Salat".

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اُنہوں نے کہا: حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو یہ حکم دیا گیا کہ اذان کے کلمات دو دو بار اور اقامت کے ایک ایک بار کہیں ماسوائے قد قامت الصلاۃ کے۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ لَمَّا كَثُرَ النَّاسُ قَالَ ـ ذَكَرُوا ـ أَنْ يَعْلَمُوا وَقْتَ الصَّلاَةِ بِشَىْءٍ يَعْرِفُونَهُ، فَذَكَرُوا أَنْ يُورُوا نَارًا أَوْ يَضْرِبُوا نَاقُوسًا، فَأُمِرَ بِلاَلٌ أَنْ يَشْفَعَ الأَذَانَ وَأَنْ يُوتِرَ الإِقَامَةَ

Narrated By Anas bin Malik : When the number of Muslims increased they discussed the question as to how to know the time for the prayer by some familiar means. Some suggested that a fire be lit (at the time of the prayer) and others put forward the proposal to ring the bell. Bilal was ordered to pronounce the wording of Adhan twice and of the Iqama once only.

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: جب مسلمان زیادہ ہوگئے تو مشورہ ہوا کہ کسی ایسی چیز کے ذریعہ نماز کے وقت کا اعلان ہو جس سے سب لوگ سمجھ لیں (اور نماز کےلئے جمع ہوجائیں) کسی نے کہا: آگ روشن کرو کسی نے کہا: گھنٹہ بجاؤ، آخر حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو یہ حکم ہوا کہ اذان کے کلمات دو دو بارکہیں اور اقامت کے کلمات ایک ایک بار۔

3. باب الإِقَامَةُ وَاحِدَةٌ، إِلاَّ قَوْلَهُ قَدْ قَامَتِ الصَّلاَةُ

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ أُمِرَ بِلاَلٌ أَنْ يَشْفَعَ، الأَذَانَ، وَأَنْ يُوتِرَ الإِقَامَةَ‏.‏ قَالَ إِسْمَاعِيلُ فَذَكَرْتُ لأَيُّوبَ فَقَالَ إِلاَّ الإِقَامَةَ‏

Narrated By Abu Qilaba : Anas said, "Bilal was ordered to pronounce the wording of Adhan twice and of Iqama once only." The sub narrator Isma'li said, "I mentioned that to Aiyub and he added (to that), "Except Iqama (i.e. Qad-Qamatis-Salat which should be said twice)."

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو اذان کے کلمات دو دو مرتبہ اور اقامت کے کلمات ایک ایک مرتبہ کہنے کا حکم ہوا۔

4. باب فَضْلِ التَّأْذِينِ

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِذَا نُودِيَ لِلصَّلاَةِ أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ وَلَهُ ضُرَاطٌ حَتَّى لاَ يَسْمَعَ التَّأْذِينَ، فَإِذَا قَضَى النِّدَاءَ أَقْبَلَ، حَتَّى إِذَا ثُوِّبَ بِالصَّلاَةِ أَدْبَرَ، حَتَّى إِذَا قَضَى التَّثْوِيبَ أَقْبَلَ حَتَّى يَخْطُرَ بَيْنَ الْمَرْءِ وَنَفْسِهِ، يَقُولُ اذْكُرْ كَذَا، اذْكُرْ كَذَا‏.‏ لِمَا لَمْ يَكُنْ يَذْكُرُ، حَتَّى يَظَلَّ الرَّجُلُ لاَ يَدْرِي كَمْ صَلَّى ‏"‏‏

Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle said, "When the Adhan is pronounced Satan takes to his heels and passes wind with noise during his flight in order not to hear the Adhan. When the Adhan is completed he comes back and again takes to his heels when the Iqama is pronounced and after its completion he returns again till he whispers into the heart of the person (to divert his attention from his prayer) and makes him remember things which he does not recall to his mind before the prayer and that causes him to forget how much he has prayed."

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب نماز کےلئے اذان دی جاتی ہے تو شیطان پادتا ہوا بڑی تیزی کے ساتھ پیٹھ موڑ کر بھاگتا ہے۔تاکہ کہ اذان کی آواز نہ سن سکے،اور جب اذان ختم ہوجاتی ہے تو واپس آجاتا ہے، لیکن جوں ہی نماز کی تکبیر ہوتی ہے تو پھر پیٹھ موڑ کر بھاگتا ہے۔ جب تکبیر بھی ختم ہوجاتی ہے تو پھر دوبارہ واپس آتا ہےاور نمازی اور اس کے دل میں خیال ڈالتا ہے۔کہتا ہے فلانی بات یادکر فلانی بات یادکر، وہ باتیں یاد دلاتا ہے جو نمازی کو یاد ہی نہ تھیں ۔ آخر وہ بھول جاتا ہے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں۔

5. باب رَفْعِ الصَّوْتِ بِالنِّدَاءِ

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ الأَنْصَارِيِّ، ثُمَّ الْمَازِنِيِّ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ قَالَ لَهُ ‏"‏ إِنِّي أَرَاكَ تُحِبُّ الْغَنَمَ وَالْبَادِيَةَ، فَإِذَا كُنْتَ فِي غَنَمِكَ أَوْ بَادِيَتِكَ فَأَذَّنْتَ بِالصَّلاَةِ فَارْفَعْ صَوْتَكَ بِالنِّدَاءِ، فَإِنَّهُ لاَ يَسْمَعُ مَدَى صَوْتِ الْمُؤَذِّنِ جِنٌّ وَلاَ إِنْسٌ وَلاَ شَىْءٌ إِلاَّ شَهِدَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏‏.‏ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏

Narrated By 'Abdul Rahman : Abu Sa'id Al-Khudri told my father, "I see you liking sheep and the wilderness. So whenever you are with your sheep or in the wilderness and you want to pronounce Adhan for the prayer raise your voice in doing so, for whoever hears the Adhan, whether a human being, a jinn or any other creature, will be a witness for you on the Day of Resurrection." Abu Said added, "I heard it (this narration) from Allah's Apostle."

عبد الرحمن مازنی اپنے والد عبد اللہ سے بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد نے انہیں خبر دی ہے کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: میں دیکھتا ہوں تمہیں بکریوں اور جنگل میں رہنا پسند ہے، اس لیے جب تم اپنی بکریوں یا جنگل میں ہو اور نماز کےلئے اذان دے تو بلند آواز سے اذان دے، کیونکہ جہاں تک مؤذن کی آواز پہنچتی ہے جن اور آدمی یا اور کوئی آواز سنتا ہے وہ قیامت کے دن اس پر گواہی دے گا۔ حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے یہ رسول اللہﷺ سے سنا ہے۔

6. باب مَا يُحْقَنُ بِالأَذَانِ مِنَ الدِّمَاءِ

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا غَزَا بِنَا قَوْمًا لَمْ يَكُنْ يَغْزُو بِنَا حَتَّى يُصْبِحَ وَيَنْظُرَ، فَإِنْ سَمِعَ أَذَانًا كَفَّ عَنْهُمْ، وَإِنْ لَمْ يَسْمَعْ أَذَانًا أَغَارَ عَلَيْهِمْ، قَالَ فَخَرَجْنَا إِلَى خَيْبَرَ فَانْتَهَيْنَا إِلَيْهِمْ لَيْلاً، فَلَمَّا أَصْبَحَ وَلَمْ يَسْمَعْ أَذَانًا رَكِبَ وَرَكِبْتُ خَلْفَ أَبِي طَلْحَةَ، وَإِنَّ قَدَمِي لَتَمَسُّ قَدَمَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏ قَالَ فَخَرَجُوا إِلَيْنَا بِمَكَاتِلِهِمْ وَمَسَاحِيهِمْ فَلَمَّا رَأَوُا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالُوا مُحَمَّدٌ وَاللَّهِ، مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ‏.‏ قَالَ فَلَمَّا رَآهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ ‏"

Narrated By Humaid : Anas bin Malik said, "Whenever the Prophet went out with us to fight (in Allah's cause) against any nation, he never allowed us to attack till morning and he would wait and see: if he heard Adhan he would postpone the attack and if he did not hear Adhan he would attack them." Anas added, "We reached Khaibar at night and in the morning when he did not hear the Adhan for the prayer, he (the Prophet) rode and I rode behind Abi Talha and my foot was touching that of the Prophet. The inhabitants of Khaibar came out with their baskets and spades and when they saw the Prophet they shouted 'Muhammad! By Allah, Muhammad and his army.' When Allah's Apostle saw them, he said, "Allahu-Akbar! Allahu-Akbar! Khaibar is ruined. Whenever we approach a (hostile) nation (to fight), then evil will be the morning of those who have been warned."

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اُنہوں نےکہا: نبی ﷺ جب ہمیں ساتھ لے کر کہیں جہاد کےلیے تشریف لے جاتے تو فورا حملہ نہیں کرتے تھے ،صبح ہوتی اور پھر آپ انتظار کرتے،اگر اذان کی آواز سن لیتے تو حملہ کا ارادہ ترک کردیتے،اور اگر اذان کی آواز سنائی نہ دیتی تو حملہ کردیتے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم خیبر کی طرف گئے ،اور رات کے وقت وہاں پہنچے،جب صبح ہوئی اور اذان کی آواز آپﷺ نے نہیں سنی تو سوار ہوئے اور میں بھی ابو طلحہ کے پیچھے سوار ہوا۔چلنے میں میرے قدم رسول اللہ ﷺکے قدم مبارک کو چھو جاتے تھے۔حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: خیبر وا لے یہودی اپنی ٹوکروں اور کدالوں کو لے کر نکلے تھے، جب انہوں نے نبی ﷺ کو دیکھا تو کہنے لگے: محمد! قسم اللہ کی! محمدﷺ پوری فوج سمیت آن پہنچے۔ رسول اللہ ﷺ نےجب ان کو دیکھا: تو فرمایا: اللہ اکبر ،اللہ اکبر خیبر برباد ہوا بیشک جب ہم کسی قوم کے میدان میں اُتر آئیں تو جو لو گ ڈرا ئے گئے ان کی صبح بُری ہوگی۔

7. باب مَا يَقُولُ إِذَا سَمِعَ الْمُنَادِي

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِذَا سَمِعْتُمُ النِّدَاءَ فَقُولُوا مِثْلَ ما يَقُولُ الْمُؤَذِّنُ ‏"‏‏

Narrated By Abu Said Al-Khudri : Allah's Apostle said, "Whenever you hear the Adhan, say what the Mu'adhdhin is saying.

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جب تم اذان سنو تو جس طرح مؤذن کہتا ہے اسی طرح تم بھی کہو۔


حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ طَلْحَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ، يَوْمًا فَقَالَ مِثْلَهُ إِلَى قَوْلِهِ ‏"‏ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ‏" حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ، قَالَ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، نَحْوَهُ‏

Narrated By 'Isa bin Talha : That he had heard Muawiya repeating the words of Adhan up to "Wa ash-hadu Anna Muhammadan Rasulul-lah (and I testify that Muhammad is Allah's Apostle.)"

عیسیٰ بن طلحہ نے بیا ن کیا اُنہوں نے حضرت معا ویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو مؤذن کی طرح کہتے سنا اشھد ان محمد رسول اللہ تک۔


قَالَ يَحْيَى وَحَدَّثَنِي بَعْضُ، إِخْوَانِنَا أَنَّهُ قَالَ لَمَّا قَالَ حَىَّ عَلَى الصَّلاَةِ‏.‏ قَالَ لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ‏.‏ وَقَالَ هَكَذَا سَمِعْنَا نَبِيَّكُمْ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ

Narrated By Yahya as above (586) and added : "Some of my companions told me that Hisham had said, "When the Mu'adhdhin said, "Haiya alas-sala(t) (come for the prayer)." Muawiya said, "La hawla wala quwata illa billah (There is neither might nor any power except with Allah)" and added, "We heard your Prophet saying the same."

یحییٰ نے کہا مجھ سے میرے ایک بھائی نے کہا: جب مؤذن نے حی علی الصلاۃ کہا: تو حضرت معا ویہ رضی اللہ عنہ نے لا حول ولا قوۃ الا باللہ کہا، اور کہنے لگے میں نے تمہارے نبی ﷺ سے ایسا ہی کہتے سُنا ہے۔

8. باب الدُّعَاءِ عِنْدَ النِّدَاءِ

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ النِّدَاءَ اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلاَةِ الْقَائِمَةِ آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي وَعَدْتَهُ، حَلَّتْ لَهُ شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"

Narrated By Jabir bin 'Abdullah : Allah's Apostle said, "Whoever after listening to the Adhan says, 'Allahumma Rabba hadhihi-d-da' watit-tammati was-salatil qa'imati, ati Muhammadan al-wasilata wal-fadilata, wab' athhu maqaman mahmudan-il-ladhi wa' adtahu (O Allah! Lord of this perfect call (of not ascribing partners to You) and of the regular prayer which is going to be established! Kindly give Muhammad the right of intercession and superiority and send him (on the Day of Judgment) to the best and the highest place in Paradise which You promised him)', then intercession for me will be permitted for him on the Day of Resurrection").

حضرت جابر بن عبد اللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فر مایا: جو شخص اذان سُن کر یہ کہے: "اللہم رب ہذہ الدعوۃ ۔۔۔ آخر تک" ترجمہ: "اے میرے اللہ جو اس پو ری پکار کا رب ہے اور قائم رہنے وا لی نما ز کا بھی رب ہے، محمدﷺ کو (قیا مت کے دن ) وسیلہ عنا یت کر اور بڑا مر تبہ اور مقام محمود پر اُن کو کھڑا کردے جس کا تو نے اُن سے وعدہ کیا ہے"، تو قیا مت کے دن میری شفا عت اس کےلئے ضرور ہوگی۔

9. باب الاِسْتِهَامِ فِي الأَذَانِ

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ سُمَىٍّ، مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي النِّدَاءِ وَالصَّفِّ الأَوَّلِ، ثُمَّ لَمْ يَجِدُوا إِلاَّ أَنْ يَسْتَهِمُوا عَلَيْهِ لاَسْتَهَمُوا، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي التَّهْجِيرِ لاَسْتَبَقُوا إِلَيْهِ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي الْعَتَمَةِ وَالصُّبْحِ لأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا ‏"‏‏

Narrated By Abu Huraira : Allah's Apostle said, "If the people knew the reward for pronouncing the Adhan and for standing in the first row (in congregational prayers) and found no other way to get that except by drawing lots they would draw lots, and if they knew the reward of the Zuhr prayer (in the early moments of its stated time) they would race for it (go early) and if they knew the reward of 'Isha and Fajr (morning) prayers in congregation, they would come to offer them even if they had to crawl."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: اگر لوگ جانتے ہوتے جو (ثوا ب) اذان اور پہلی صف میں ہے پھر بغیر قرعہ ڈالے اُن کو نہ پا سکتے، تو بیشک اُن پر قرعہ ڈالتے اور اگر وہ جانتے جو (ثواب)ظہر کی نماز کےلیے سویرے جا نے میں ہے تو ایک دو سرے سے آگے بڑھتے اس کےلئے اور اگر جانتے جو ( ثوا ب) عشا ء اور فجر کی نماز میں ہے تو گھِسٹتے ہوئے ان کےلئے آتے۔

10. باب الْكَلاَمِ فِي الأَذَانِ

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، وَعَبْدِ الْحَمِيدِ، صَاحِبِ الزِّيَادِيِّ وَعَاصِمٍ الأَحْوَلِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ خَطَبَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ فِي يَوْمٍ رَدْغٍ، فَلَمَّا بَلَغَ الْمُؤَذِّنُ حَىَّ عَلَى الصَّلاَةِ‏.‏ فَأَمَرَهُ أَنْ يُنَادِيَ الصَّلاَةُ فِي الرِّحَالِ‏.‏ فَنَظَرَ الْقَوْمُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ فَقَالَ فَعَلَ هَذَا مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْهُ وَإِنَّهَا عَزْمَةٌ‏

Narrated By 'Abdullah bin Al-Harith : Once on a rainy muddy day, Ibn 'Abbas delivered a sermon in our presence and when the Mu'adhdhin pronounced the Adhan and said, "Haiya ala-s-sala(t) (come for the prayer)" Ibn 'Abbas ordered him to say 'Pray at your homes.' The people began to look at each other (surprisingly). Ibn 'Abbas said. "It was done by one who was much better than I (i.e. the Prophet or his Mu'adhdhin), and it is a license.'

عبد اللہ بن حارث سے مروی ہے اُنہو ں نے کہا: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ہم کو (جمعہ کا ) خُطبہ سُنایا اُس دن بارش کی وجہ سے اچھی خاصی کیچڑ ہورہی تھی ، کیچڑتھی ،جب مؤذن حی علی الصلاۃ کہنے کو تھا تو اُنہو ں نے اس کو حکم دیا کہ یوں کہے: نماز اپنے اپنے ٹھکانوں میں پڑھ لو۔ یہ حا ل د یکھ کر لو گ (حیرت سے ) ایک دو سرے کا منہ تکنے لگے ابنِ عبا س رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھ سے جو بہتر تھے اُنہوں نے ایسا کیا ہے اور اس میں شک نہیں کہ جمعہ وا جب ہے۔

123Last ›